خشک سالی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - قحط، کال۔ "سات سال خوشحالی کے بعد، خشک سالی کے سات برس آئیں گے اور جو غلہ جمع تم نے کر رکھا ہو گا وہ سب اس کو کھا جائیں گے۔"      ( ١٩٧٢ء، آواز دوست، ٢٤٤ ) ٢ - وہ موسم جس میں خلاف معمول بارش نہ ہو۔ "یہ (پروٹو پیٹرس : Protopterus) خشک سالی میں کیچڑ میں بِل بناتی ہے اور . برسات کی آمد تک زندگی گزارتی ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، معیاری حیوانیات، ٢١٢:٢ ) ٣ - [ مجازا ]  ناقدری، قدردانی نہونا؛ کمیابی۔ "دوسرا حصہ اس خشک سالی کی نشانی، قحط الرجال کے یہ سات سال اتنے طویل ہو گئے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، آواز دوست، ٢٤٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'خشک' کے ساتھ فارسی اسم 'سال' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ صفت و کیفیت لگانے سے مرکب 'خشک سالی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٥ء کو "جامع الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قحط، کال۔ "سات سال خوشحالی کے بعد، خشک سالی کے سات برس آئیں گے اور جو غلہ جمع تم نے کر رکھا ہو گا وہ سب اس کو کھا جائیں گے۔"      ( ١٩٧٢ء، آواز دوست، ٢٤٤ ) ٢ - وہ موسم جس میں خلاف معمول بارش نہ ہو۔ "یہ (پروٹو پیٹرس : Protopterus) خشک سالی میں کیچڑ میں بِل بناتی ہے اور . برسات کی آمد تک زندگی گزارتی ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، معیاری حیوانیات، ٢١٢:٢ ) ٣ - [ مجازا ]  ناقدری، قدردانی نہونا؛ کمیابی۔ "دوسرا حصہ اس خشک سالی کی نشانی، قحط الرجال کے یہ سات سال اتنے طویل ہو گئے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، آواز دوست، ٢٤٥ )

جنس: مؤنث